DATES

➖کھجور➖
کھجور کا درخت ہمیشہ سے انسان کا بہترین ساتھی رہا ہے۔ کھجور کے پھل کے ساتھ ساتھ درخت کی ہر ہر چیز انسان کی گھریلو ضروریات پوری کرنے میں استعمال ہوتی آئی ہے۔

کھجور کی کاشت سندھ اور خشک آب و ہوا والے علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی کامیابی سے کی جا رہی ہے۔ جو اقسام فروٹ کے حوالے سے پنجاب میں اچھی پیداوار دے رہی ان میں اصیل، کربلین، شکری، زاہدی اور ڈھکی سر فہرست ہیں۔

کمرشل فارمنگ کے طور پر لگانے کے لیے کھجور کے پودوں کا درمیانی فاصلہ کم از کم 20 فٹ اور فی ایکڑ پودوں کی تعداد 120 تک ہونی چاہئیے.

کھجور میں نر اور مادہ پودے الگ الگ ہوتے ہیں. پولینیشن کا عمل شہد کی مکھیوں اور ہوا کے زریعے وقوع پذیر ہوتا ہے لیکن بھر پور پھل لینے کے لئے انسانی ہاتھوں سے پولینیشن کے عمل کو مکمل کیا جاتا ہے. پولینیشن کے اس عمل کو کئی بار وقفے وقفے سے دہرایا جاتا ہے.
نر کھجور کے پھٹے ہوئے سکر کو کاٹ کر مادہ کھجور کے سکر (خوشے) پر جھاڑا جاتا ہے. نر پولن کے بغیر مادہ کھجور میں گھٹلی نہیں بنتی جس کی وجہ سے کھجور کا ذائقہ نہیں ہوتا اور وہ کھانے کے قابل بھی نہیں ہوتی. اور پیداوار میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے.
پولن خودرو اور سڑکوں کے کنارے اگلے ہوئے نر کھجور کے پودوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے. نر کھجور کی کوئی ورائٹی نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ کسی مادہ کھجور ورائٹی کے پھل میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہیے.

پاکستان میں کھجور کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں اور ہر قسم کی کھجور کا الگ ذائقہ ہوتا ہے
مشہور اقسام میں ڈھکی۔شکری۔گول توشہ۔شیریں۔ملاح۔سکھاٹی۔توشہ بصرہ۔حلیمی۔ڈونا-اصیل۔کربلین۔کھپڑو-خرما-گاجر-بیگم جنگی۔مضافتی۔زیدی وغیرہ ہیں۔
ان میں اکثر وہ ہیں جنکا ڈوکا یا ڈنگ بہت میٹھاہوتا ہے اور یہ عموما ایک ماہ کے اندر ہی ختم ہو جاتی ہیں مطلب نہ تو انکا چھورا بن سکتاہے اور نہ ہی کھجور. پنجاب میں ذیادہ تر ڈوکےوالی کھجور لگی ہوئی ہیں۔

کھجور اور چھوارا بنانے والی اقسام:
ڈھکی۔اصیل۔کربلین۔بیگم جنگی۔یہ وہ مشہور اقسام ہیں جنکی کھجور بھی بن سکتی ہے اور چھوارا بھی۔

➖➖کاشت سے برداشت تک ۔۔ کسان کے ھمسفر➖➖

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Cart